امتحانات
امتحان داخلہ کے علاوہ ادارہ میں ۲؍ امتحانات اور ۲؍ ٹیسٹ منعقد ہوتے ہیں جن کی تفصیل حسب ذیل ہے:
ششماہی امتحان
یہ تحریری امتحان ماہ ربیع الاول شریف کے پہلے عشرے میں منعقد ہوتا ہے،
جس کا مقصد چھ مہینے کے اندر ہونے والی تعلیمی پیش رفت کا جائزہ لینا اور
تعلیمی رفتار میں تیزی پیدا کرنا ہے۔ طلبہ کی تعلیمی صلاحیت اور پوزیشن
متعین کرنے میں اس امتحان کو کلیدی اہمیت حاصل ہے۔
سالانہ امتحان
یہ امتحان تعلیمی سال کے اختتام پر اوائل شعبان المعظم میں منعقد ہوتا ہے،
جو تحریری اور تقریری دونوں طریقوں سے لیا جا سکتا ہے۔ اس امتحان میں کامیابی
پر ہی طلبہ کو اگلی جماعت میں ترقی دی جاتی ہے، بصورت دیگر طالب علم کو
مشروط طور پر ایک سال مزید اسی جماعت میں رہنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
سہ ماہی و نہ ماہی ٹیسٹ
یہ تقریری ٹیسٹ تین مہینے اور نو مہینے پر منعقد ہوتا ہے۔ اس کا مقصد طلبہ کی
تعلیمی سرگرمیوں کا جائزہ لینا اور ان میں تعلیمی چوکسی پیدا کرنا ہے۔ یہ ٹیسٹ
۲۰ نمبروں کا ہوتا ہے جو ششماہی اور سالانہ امتحان میں شامل کیا جاتا ہے۔
اصولِ امتحان
- جس طالب علم کی حاضری بلحاظ تعلیمی ایام 70 فیصد سے کم ہوتی ہے وہ سالانہ امتحان میں شرکت کا مجاز نہیں ہوتا۔
- امتحان میں کامیاب ہونے والے طلبہ کے لئے تین درجات متعین ہیں جن کے کم سے کم نمبروں کا معیار درج ذیل ہے:
فرسٹ ڈویژن: 60٪
سکینڈ ڈویژن: 45٪
تھرڈ ڈویژن: 33٪
- طالب علم کو پاس ہونے کے لیے سبھی پرچوں میں کم از کم 33 فیصد نمبر حاصل کرنا لازمی ہے،
اس سے کم نمبر حاصل کرنے والے کو فیل قرار دیا جاتا ہے۔
- ششماہی امتحان میں 1 پرچے میں فیل ہونے والے طالب علم کو رعایتی پاس اور
2 پرچوں میں فیل ہونے والے طالب علم کو فیل قرار دیا جاتا ہے۔
- سالانہ امتحان میں 1 پرچے میں فیل ہونے والے طالب علم کو ترقی پاس اور
2 پرچوں میں فیل ہونے والے طالب علم کو فیل قرار دیا جاتا ہے اور ترقی روک دی جاتی ہے۔
- سالانہ امتحان میں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ کو مارک شیٹ دی جاتی ہے۔
نتائج امتحانات کا اعلان
ششماہی و سالانہ امتحانات کے نتائج کا اعلان زیادہ سے زیادہ ایک ہفتہ کے اندر کر دیا جاتا ہے۔