Reviews

حضور مفتئی اعظم ہند علیہ الرحمۃ والرضوان، بریلی شریف

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

یہ فقیر سراپا تقصیر غفرلہ المولی العزیز القدر عبدالستار صاحب کے اصرار پر جمشید پور وارد ہوا۔ مجھے عزیز مکرم مولانا ارشد القادری سلمہ الکریم کی مزاج پرسی بھی کرنی تھی اور محترم العزیزسلمہ کی ملاقات کی مسرت حاصل کرنی تھی اس لیے با وجود اپنے کال کے اس وقت کلکتہ سے جمشید پور کا سفر کر نے سے سخت مانع تھا۔ جمشید پور چلا ہی آیا۔ یہاں پہنچ کر معلوم ہوا مولا ناسلمہ عظیم آباد پٹنہ میں ہیں،یہ سن کر افسوس ہوا مگرمدرسہ فیض العلوم کو دیکھ کر مسرت ہوئی دل خوش ہو گیا۔ مولی تعالی اس مدر سہ کو روز افزوں ترقی بخشے۔ اور مولانا سلمہ کے حسب مراد بلکہ فوق المراد ہر اعتبار سے اس مدرسہ کو بام ترقی پر پہنچائے۔ بہت بہترین عمارت ہے۔ ایک منزلہ ہے اگر یہ دو منزلہ ہو جائے تو منارۂ ہدایت دور دور سے نظر آئے اور اس سے متصل ہی اور زمین پڑی ہے۔ جو ان شاء اللہ مدرسے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کر دے گی۔ اگر مسلمانوں نے ادھر توجہ کی اور اس میں کرایہ کا مکان اور دکانیں بنا دیں۔ مولی تعالی مسلمانوں کو توفیق دے۔

فقیر مصطفیفقیر مصطفی رضا غفرلہ

شعبان المکرم 1382؁ھ /۳

حضور حافظ ملت علیہ الرحمۃ والرضوان بانی الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

ربیع الثانی کی مبارک تاریخ میں جامعہ فیض العلوم کی سعادت حاصل ہوئی اور بفضلہ تعالیٰ فیض العلوم کے فیض کو /۲ جاری پایا۔ اور ہر شعبہ کی ترقی کا اندازہ ہوا۔ یہ خالص دینی مرکزی ادارہ اپنی خدمات میں نہایت سرگرمی سے منہمک ہے اور بہت ہی کامیاب ہے۔ طلبہ اور طالبات کی کثیر تعداد تحصیل علم میں مصروف ہیں جن کو دیکھتے ہی یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ فیض العلوم کا معیار تعلیم قابل تحسین ہے۔ طلبہ کی سنجیدگی اور سلامت روی ان کی بہتر تربیت کا پتہ دیتی ہے۔ اور اس کے روشن مستقبل کی دلیل ہے۔ اس لیے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اساتذہ کرام اور اراکین اور منتظمین اپنی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے اپنی خدمات میں مصروف ہیں۔ عزیز مکرم حضرت علامہ ارشد القادری زید مکرمہ فیض العلوم کی روح رواں ہیں۔ ان کی مخلصانہ خدمات سے یہ ادارہ ہر دور سے گزرتا ہوا سارے مراحل و منازل طے کرتا ہوا چلا جارہا ہے اور بفضلہ تعالٰی اس وقت بہت اچھی حالت میں ہے۔ اور اراکین و منتظمین کی پوری توجہ رہی توان شاء اللہ المولی القدیر مستقبل قریب ہی میں فیض العلوم بام عروج پر پہنچے گا۔ میں مسلمانان اہلسنت کو توجہ دلاتا ہوں کہ فیض العلوم کو روزافزوں ترقی عطا فرمائے آمین – بجاہ حبیبہ سید المرسلین عبدہ و علی الہ افضل الصلوۃ والتسلیم

فقط عبد العزیز عفی عنہ

شعبان المعظم 1395؁ھ /26

حضور مجاہد ملت حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب قبلہ علیہ الرحمۃ والرضوان

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

مورخہ 27/ ربیع الآخر403 ۱؁ ھ بروز دو شنبہ مبارکہ فیض العلوم کی زیارت نصیب ہوئی اس سے پہلے بھی کی مرتبہ حاضری کا موقع ملا۔ اس کی عمارت و تعمیری و تعلیمی نظام اور دگر امور انتظامیہ کی روز افزوں ترقی سے طبیعت خوش ہوئی۔ باری عزوجل اپنے حبیب کریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم کے صدقہ میں اور طفیل حضر ت غوث جیلانی رضی اللہ عنہ وارضاہ عنا روز افزوں دینی خدمات کی توفیق و رفیق عنایت فرمائے۔ اور عزیز القدر مولانا ارشد القادری سلمہ الحفیظ عن شر المفسدین کی عمر میں اور دینی خدمات میں ترقی عطا فرمائے۔ امین

محمد حبیب الرحمن قادری

ماہ فاخر ربیع الآخر 1403ھ / 27

مخدوم ملت حضر ت علامہ سید اظہار اشرف علیہ الرحمہ آستانہ اشرفیہ سر کار کلاں کچھوچھہ شریف

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

آج مورخہ 19/جون 1984؁ء کو پہلی مرتبہ مدرسہ فیض العلوم جمشید پور میں حاضری کا اتفاق ہوا ایک عرصہ دراز سے اس ادارے کے متعلق سنتا رہا۔ اور پہلے ہی سے میں کافی متاثر تھا۔ لیکن آج میں اپنی انکھوں سے دیکھ کر اندازہ لگایا کہ اب تک جو کچھ سنتا تھا اس سے کہیں زیادہ پایا۔ ایک ادارے کی ترقی کیلئے اس سے بڑھکر اور کیا ضمانت ہو سکتی ہے کہ حضرت علامہ ارشد القادری اس کے روح رواں ہیں۔ آج کے پر آشوب دور میں جتنی چیزوں کی ضرورت ہے بحمدہ تعالیٰ فیض العلوم اس کو شاندار طور پر انجام دے رہا ہے۔ مدرسہ کی عمارت حضرت علامہ کی کوشسوں کی غمازی کر رہی ہے۔ بحمدہ تعالی طلبہ کی تعداد بھی کافی ہے۔ مدرسین بھی اچھی صلاحیت کے مالک ہیں۔ انشاء اللہ تعالی یہ ادارہ ترقی کرتا رہے گا۔ میری تمام اہلسنت سے گزارش ہے کہ وہ بھر پور تعاون سے ادارہ کو مستحکم بنائیں مولی تعالی بطفیل سرکار مدینہ علیہ الصلوۃ السلام اس ادارے کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن فرمائے۔ امین میری تمام تر دعائیں اس ادارے کے ساتھ ہیں۔

فقط والسلام سید اظہار اشرف اشرفی جیلانی

کچھوچھہ شریف 19/ جولائی 1984ء

عالیجناب ڈاکٹر محمد یونس حکیم صاحب چیر مین بہار اسٹیٹ مدر رایجوکیشن بور ڈ پٹنہ

آج14/اپریل 1989؁ء کو میں نے مدرسہ کا معائنہ کیا۔ یہ مدرسہ بہار میں اول در جہ کا ہے اس کا انتظام بہتر ہی نہیں، مثالی ہے۔نمونہ کے طور پر اور مدرسہ کیلئے سیکھنے کی چیز ہے۔ علامہ ارشد القادری صاحب کا یہ کارنامہ قابل فخر ہے۔ ان کی شخصیت اور صلاحیت سے یہاں کے لوگ مستفیض ہو رہے ہیں۔ اور یہ ملک کے مشعل راہ ہیں۔ خدا ان کی عمر دراز فرمائے اور ان کو صحت کلی نصیب کرے تاکہ فلاح کا یہ چراغ ہمیشہ ہمیشہ جلتا رہے میں بھی یہاں سے بہت کچھ لیکر جا رہا ہو ں کہ دو سر ے مدارس میں اس مدرسے کے بہتر نظم کا چرچہ کیا جائے۔ ماحول صاف ستھرا ہے اور اساتذہ قابل تعریف ہیں۔ دو سو پچاس طلبہ کے رہنے اور ان کے طعام کا بھی بہتر نظم ہے۔ خدا کرے دن بدن یہ مدرسہ ترقی کرتا جائے۔ اسے جلد ہی ان شاء اللہ فاضل درجہ تک کر دیا جائے گا۔

محمد یونس حکیم

چیئرمین مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ

اے ایم کمال صباسکرٹیری بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجو کیشن بور ڈ پٹنہ

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

آج مجھے اس مدرسہ کو با ضابطہ دیکھنے اور ملاحظہ کرنے کا موقع ملا۔ اس مدرسہ کی اپنی ایک عالیشان عمارت ہے شاید دو تین ہی بہار میں ایسے مدر سے ہیں جنکی اپنی عمارت اتنی وسیع و عریض ہیں اللہ نظر بد سے بچائے۔ امین۔ یہ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ سے عالم تک ملحق ہے اور درجہ عالم تک با ضابطہ اس میں تعلیم ہو رہی ہے۔ ہر سال مدرسہ ایجو کیشن بورڈ سے طلبہ امتحان میں شریک ہوتے ہیں۔ اس مد رسے میں کل گیارہ اساتذہ ایک کلرک دو بپیون ہیں۔ بورڈ سے ان چودہ حضرات کو مشاہراہ کی ادائیگی ہوتی ہے۔ یہ بالکل کھلی ہوئی بات ہے کہ عالم معیار مدرسہ کیلئے گیارہ اساتذہ بالکل ناکافی ہیں۔ اس لئے ارباب حل و عقد مدرسہ نے اپنی جانب سے چار اساتذہ اور ایک کلرک کی مزید بحالی کی اوران کی تنخواہ اپنے فنڈ سے ادا کرتے ہیں۔ اس مدرسہ کی لائبریری بہت معیاری ہے۔ ہر فن پر نادر کتا بیں ہیں۔ بچوں میں بڑی راستگی پائی جاتی ہے اساتذہ خود مہذب اور تربیت یافتہ ہیں اور بچوں پر ان کی شفقت رہا کرتی ہے۔ وہ تعلیم کے ساتھ تربیت پر بھی خاصہ دھیان دیتے ہیں۔ اس مدر سے ملحق ایک دارالاقامہ ہے اس مدرسہ میں کم و بیش دو سو پچاس طلبہ کو جاگیریں دی جاتی ہیں۔ یہ بہت بڑی بات ہے حضرت علامہ ارشد القادری رضا کی ذات بابرکات غنیمت ہے۔ وہ تن من دھن سے مدرسہ کی فلاح و بہبودی میں رہتے ہیں۔ وہ اپنی ذات میں ایک انجمن ہیں۔ اللہ ان کا سایہ صحت و تند دوستی کے ساتھ اس مدرسہ پر قائم رکھے۔ امین میں نے مدرسہ کے کاغذات بھی دیکھے۔ رجسٹر اور دوسر کا غذات ضروری ریکارڈ رکھنے اور تربیت دینے کا مدرسین کے اندر اچھا ڈھنگ ہے۔ آخر میں بارگاہ رب العزت میں دعا ہ کہ مدرسہ دن دونی رات چوگنی ترقی کرے ترقی کرے اور دین کا یہ سرچہ ہمیشہ باقی رہے۔ اور نیک خدمات انجام دیتا رہے۔ آمین ثم امین

اے ایم کمال صبا

سکریٹری بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ

شہزادۂ حافظ ملت حضرت علامہ الحاج عبد الحفیظ صاحب قبلہ

سربراہ اعلی الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور (یوپی)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

حسب روایت میں امسال بھی جامعہ فیض العلوم جمشید پور کے سالانہ اجلاس میں شریک ہوا۔ بحمدہ تعالیٰ اجلاس بے حد کامیاب رہا۔ درجہ فضیلت،حفظ و قرآت میں کافی طلبہ فارغ ہوئے۔ سالہائے گذشتہ سے زیادہ مجمع شریک اجلاس رہا۔ اور آخر تک دلچسپی کے ساتھ تقریر و نعت سنتا رہا۔ نیز اپنے جذبات کا اظہار داد و تحسین سے کرتا رہا۔ انتظامی امور بھی اطمینان بخش قابل ستائش نظر آئے۔ یہ سب حضرت علامہ علیہ الرحمہ کے اخلاص وللہیت اور ایثار و قربانی کا نتیجہ ہے کہ اس وقت ادارہ مخلص ارکان کی سرکردگی میں اپنے مقصد کو بحسن و خوبی انجام دے رہا ہے۔ لہذا قوم کو پہلے سے زیادہ ادارہ کا خیال رکھنا ہے۔ اور اس کی ضرورتوں کو پورا کر کے عنداللہ اجر و ثواب کا مستحق ہونا ہے۔ رب تعالیٰ ادارہ کو حوادث زمانہ سے محفوظ رکھے۔ اس کے ارکان محبین و معاونیں کو دارین کی نعمتوں برکتوں سے مالا مال فرمائے۔ آمین۔

بجاہ حبیب سید المرسلین علیہ الصلوۃ والسلام – فقط

عبد الحفیظ عفی عنہ

خادم الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور یوپی

شعبان المعظم1432؁ھ/۷۱

مناظر اہلسنت حضر ت مولانا منصور علی خان قادری رضوی خطیب سنی مسجد مدن پورہ ممبئی

لک الحمد یا اللہ والصلوۃ والسلام علیک یا رسول اللہ

فاتح جمشید پور سیاح یورپ، مناظر اہل سنّت حضر ت علا مہ ارشد القادری صاحب قبلہ دامت برکاتہم القدسیہ کی ذات دنیائے سنیت میں محتاج تعارف نہیں، جماعت اہلسنت کا وہ عظیم مرد مجاہد جو زبان و قلم کا شہنشاہ مانا جاتا ہے جن کی خدمات ملک و بیرون ملک میں آفتاب سے زیادہ روشن ہیں، اور جن کا اوڑھنا بچھونا ہی احقاق حق اور ابطال باطل ہے۔ انہی خدمات میں انکا روشن ترین کارنامہ دارالعلوم اہلسنت فیض العلوم ہے۔ میں ہر سہائے برس سے جا معہ فیض العلوم کا نام سنتا تھا امسال 1403؁ھ میں جب میں گیارہویں شریف کے سلسلہ میں جامعہ میں حاضری کی سعادت حاصل ہوئی۔ حالانکہ حضرت علامہ موصوف اس وقت ہالینڈمیں مقیم ہیں پھر بھی حضر ت مولانا امین الدین صاحب نے پورے جامعہ کا معائنہ کرایا۔ جامعہ فیض العلوم، فیض العلوم مڈل،ہائی اسکول (بوائز اینڈ گرلز) فیض العلوم ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ اور دیگر شعبہ جات کا معائنہ ہوا۔ مستعد و محنتی طلبہ با صلاحیت اساتذہ کرام، شاندار عمارت، غرض ہر چیز اپنی جگہ با وقار ہے۔ حضرت علامہ ارشد القادری صاحب قبلہ اور ان کے رفقار کی سعی پیہم وجہد مسلسل کی آئینہ دار جامعہ کے بارے میں جو سنا تھا وہ اس سے عظیم پایا۔ مولائے کریم اپنے محبوب رؤوف علیہ الصلوۃ والتسلیم کے صدقہ اور طفیل میں جامعہ کو صبح وشام ترقی و کامیابی عطا فرمائے اور جامعہ کے ذریعہ اسلام و سنیت کے بے باک مجاہد و غازی پیدا ہوں۔ جو حضور سید نا اعلیحضر امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کے مسلک حق کے ناشر و مبلغ ہوں۔ جماعت اہل سنت کے مخیر اور با حوصلہ فیاض دل حضرات گزارش ہے کہ جا مو فیض العلوم کو اپنے قیمتی تعاون سے ایسا فیض پہنچائیں کہ یہ مینارہ نور ہدایت تا قیامت سلامت رہے۔ اور فیض العلوم کا فیض میدان حشر میں نجات و سرخر وئی کا ذریعہ و سبب ہو جائے۔ آمین بجاہ حبیبہ سید المرسلین علیہ وعلی آلہ و صحبہ افضل الصلوۃ والتسلیم

خلوص کار محمد منصور علی خان قادری رضوی

فروری 1983ء / 12

عارف زمن حضرت مولانا سید شاہ فدا حسین علیہ الرحمۃ و الرضوان (سرکار پٹنہ)

مدرسہ فیض العلوم جمشید پور کے سالانہ جلسہ دستار بندی میں شریک ہو کر مجھے بے حد مسرت ہوئی یہ کہتے ہوئے مجھے خوشی ہوتی کے مدرسہ فیض العلوم میری بہترین آرزؤں اور محبوب دعاؤں کا سرسبز شاداب گلشن ہے۔ اس درسگاہ کی عالیشان عمارت اور اس کی تعلیم و ترقی دیکھ کر خداکی غیبی تائید اور پیران سلاسل کے فیضان پر بے اختیار سجدہ شکر ادا کرنے کو جی چاہتا ہے۔ مولی تعالی بطفیل سرکار کائنات، عزیز قلبی، سعید از لی مولانا ارشد القادری صاحب مہتمم مدرسہ فیض العلوم اور ان کے رفقاء و معاونین کو قدم قدم پر شاداب اور سرفراز رکھے اور انہیں حاسدین کی شر سے بچائے۔ میں تمام متوسلین و معتقدین و مخلصین کو تاکید کرتا ہوں کہ وہ ہمیشہ مولاناسلمہ کے حامی و جانثار رہیں اور اس سنی مدرسہ کی ہر ممکن مدد کریں اس میں دین کی بھلائی ہے اور جماعت کی سلامتی ہے۔ اس مدرسہ میں مقامی اورغیر مقامی تیم و نادار بچوں کی بہت بڑی تعداد پرورش پارہی ہے۔ فطرہ و زکوۃ کی رقم سے ان کی مدد کی جائے۔

فقیر فدا حسین ابو العلائی منعمی ایو الفیاضی عفی عنہ

خانقاہ سلمی پٹنہ، 17 شعبان المعظم

ممتاز الفقہا محدث کبیر حضرت علامہ شا ہ مفتی ضیاء المصطفے امجدی قادری

شیخ الحدیث الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

حسب سابق امسال بھی مدرسہ فیض العلوم جمشید پور کے سالانہ جلسۂ دستار فضیلت میں حاضر ہوا بحمدہ تعالی یہ ادارہ اپنی تعلیمی و تربیتی روایات پر قائم ہے۔18/ فضلاء، 18/ حفاظ و19/ قراء کو دستار فضل سے نوازا گیا۔ جلسہ کا ہجوم گذشتہ ادوار سے زیادہ تھا۔ اور لوگ شوق سماعت میں محو تھے۔ معیار تعلیم و نظم قابل تقلید و تحسین پایا حضرت علامہ علیہ الرحمہ کے اخلاص کے نتائج اور انکی روحانی تاثیر قابل دید ہے۔ رب قدیر اس ادارہ کو شب و روز ترقی و استحکام عطا فرمائے۔ اور جملہ آفاتِ روزگار سے محفوظ و مصؤن رکھے۔ آمین – علامہ علیہ الرحمہ کے بعد ادارہ کے تعاون میں حصہ لینے کی ذمہ داریاں عامہ ا ہلسنت پر بڑھ گئی ہیں۔ اس لئے اصحاب خیر حضرات سابقہ روایات سے بھی زیادہ اس کے تعاون میں حصہ لیں اور عنداللہ بے حساب اجر کے مستحق بنیں – واللہ لی التوفیق والیہ المآب

ضیاء المصطفیٰ قادری غفرلہ

شعبان المعظم 1423ھ / 16

سید نجیب حیدر نوری

نائب سجادہ نشین، درگاہ برکاتیہ مارہرہ شریف، مقیم حال جمشید پور

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

آج ۸ جون ۲۰۰۲ء بروز شنبہ رئیس القلم حضرت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ والرضوان کے فاتحہ چہلم میں شرکت کے لیے جمشید پور حاضر ہوا۔ دل تو ان کے سانحۂ ارتحال کی خبر سن کر ہی دکھا ہوا تھا۔ آج بعد نماز عصر ان کے مزار شریف پر ایصالِ ثواب کی غرض سے حاضر ہوا تو غم پھر تازہ ہوگیا اور ذہن میں یہ دو مصرعے آگئے:

اُڑ گیا تو شاخ کا سارا بدن جلنے لگا دھوپ رکھ لی تھی پرندے نے پروں کے درمیاں

حضرت علامہ علیہ الرحمہ کے کارناموں پر مختصر ترین مگر جامع ترین تبصرہ کرنے کے لیے حروفِ تہجی کا صرف ایک حرف “ت” بڑی اچھی کفالت کرتا ہے: تحریر، تقریر، تشکیل، تدریس، تعمیر اور تفکر — ان تمام کارناموں میں حضرت علامہ علیہ الرحمہ کی شخصیت یکتائے روزگار تھی۔ اس شعر پر اپنے تاثرات کو ٹھہراتا ہوں:

ورے لوگ ہم نے ایک ہی شوخی میں کھو دیئے پیدا کئے تھے چرخ نے جو خاک چھان کے

سید نجیب حیدر نوری

نائب سجادہ نشین، درگاہ برکاتیہ مارہرہ شریف، مقیم حال جمشید پور

ارشاد اقبال اشرفی

قومی اردو کونسل، نئی دہلی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بترجمہ علمائے حق، علم حاصل کرو گرچہ چین میں ہو، جس کی تفسیر ہمارے مدرسے کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ حضرت سیدنا علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کا قول ہے کہ تم دنیا کے حصہ کو بھی نہ بھولو۔ اس کی روشنی میں یہ ضروری ہے کہ کچھ اس طرح کی تعلیم بھی مدرسے کے طلبا و طالبات کو دی جائیں جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول کے حصولیابی کے ضامن ہوں۔ مدرسہ فیض العلوم اس سمت میں اچھی پیش رفت کر رہا ہے۔ خطاطی اور گرافک ڈیزائن کا کورس مدرسے کے طلبہ اور طالبات کو قومی اردو کونسل کے تعاون سے فراہم کرایا جانا ایک مستحسن قدم ہے۔ ضروری ہے کہ کمپیوٹر کی تعلیم سے بھی ان بچوں کو آشنا کرایا جائے تاکہ عملی زندگی میں اُن کے کام آسکے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ آپ تمام لوگوں کی کوششیں کامیاب ہوں۔

ارشاد اقبال اشرفی

قومی اردو کونسل، نئی دہلی، الہند

حصر ت فیض العارفین علامہ شاہ غلام آسی پیا ابو العلائی جہا نگیری

بابت مدرسہ فیضبابت مدرسہ فیض العلوم جمشید پور

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سلسلہ عالیہ ابوالعلائی کی اشاعت کے سلسلے میں بہار،بنگال جہاں کہیں بھی جاتا ہوں وہاں پہنچنے کے بعد محترم علامہ ارشد القادری صاحب مدظلہ العالی کی اور ان کے مدرسہ فیض العلوم جمشید پور کی شہرت اور ان کے دینی خدمات کے اثرات روز روشن کی طرح جھلکتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس میں کوئی شبہہ نھیں کہ پورے بہار کو علا مہ موصوف کی مخلص شخصیت نے کھنگال کے رکھ دیا ہے۔ بہار کے ہر ضلع میں مدسہ فیض العلوم جمشید پور کے فاضل وعالم سند یافتہ علما ئے کرام، جوشیلے فیضی نظر سے گزرتے ہیں۔ گویا بنگال وبہار کی سنیت ان کے دم سے جگمگا رہی ہے۔ دعاء ہے کہ رب قدیر جل مجدہ ان کو اور ان کے مدرسہ فیض العلوم اور ان کی شاخوں کو حوادث زمانہ سے ہر وقت محفوظ و مامون رکھے۔ اور دن دونی رات چوگنی عروج و ترقی مرحمت فرمائے۔ ابھی اسی ہفتہ میں گھاٹ شیلہ موسیٰ بنی پیری مریدی کے سلسہ میں پہنچا وہاں کی ہر مسجد پر مدرسہ عربیہ دینیہ میں فیض العلوم ہی کے دستار بند علماء دیکھے جو نہایت جوش و خروش کے ساتھ سنیت و مذہب اسلام کی خدمت کر رہے ہیں۔

والسلام مع الاکرام فیض العارفین غلام آسی پیا حسنی رضوی

13 اپریل 1989ء، جمشید پور

Call Now Button